Tuesday, 9 October 2012

''مدینہ'' کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے پانی کے مُسْتَعْمَل ہونے کی پانچ صُورتیں

سُوال:    پانی کب مُسْتَعْمَل ہوتاہے ؟
جواب:    اِس کی کئی صُورَتیں ہیں:
(۱)    اگر بے وُضُوشَخْص کا ہاتھ یا اُنگلی یا پَورایا ناخُن یا بَدَن کا کوئی ٹکڑا جو وُضُو میں دھویا جاتا ہو، بقَصْد یا بلا قَصْد(یعنی اِرادے سے یابغیراِرادہ) ، دَہ در دَہ سے کم پانی میں بے دھوئے ہوئے پڑ جائے تو وہ پانی وُضُو اور غُسْل کے لائق نہ رہا۔ (بَہَارِشَرِیعَت حصّہ ۲ص۵۵مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)
(۲)    جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جِسْم کا کوئی بے دُھلاحصّہ پانی سے چُھو جائے تو وہ پانی وُضُو اور غُسْل کے کام کانہ رہا۔ اگر دُھلا ہوا ہاتھ یا بَدَن کا کوئی حصّہ پڑ جائے تو حَرَج نہیں۔ (ایضاً)
(۳)    اگر ہاتھ دُھلا ہوا ہے مگر پھر دھونے کی نيت سے ڈالا اور یہ دھونا ثواب کا کام ہوجیسے کھانے کے لئے یا وُضُو کے لئے تو یہ پانی مُسْتَعْمَل ہو گیا یعنی وُضُو کے کام کا نہ رہا اوراس کو پِینا بھی مَکرُوہِ(تنزیہی) ہے ۔ (اَیضاً)
(۴)    چُلّو ميں پانی لینے کے بعد حَدَث ہوا (یعنی رِیح وغیرہ خارج ہوئی )وہ چُلّو والاپانی بے کار ہو گیا( وُضُو وغُسْل میں) کسی عُضْوْ کے دھونے میں کام نہیں آسکتا۔ (بَہَارِشَرِیعَت حصّہ ۲ص۳۲مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)
(۵)    مُسْتَعْمَل پانی اگر اچّھے پانی میں مِل جائے مَثَلاً وُضُو یا غُسْل کرتے وقت قَطْرے لوٹے یا گھڑے میں ٹپکے، تواگر اچّھا پانی زِيادہ ہے تویہ وُضُو اورغُسْل کے کام کا ہے وَرْنہ سب بے کار ہو گیا ۔ (اَیضاً ص۵۶ )

No comments:

Post a Comment