Thursday, 11 October 2012

مَعْذورِ شرعی کے بارے میں حکم 

مَعْذور شرعی اس حکم سے مُسْتَثْنٰی ہے یعنی دَورانِ وُضُو رِیح کے مَریض کی رِیح خارج ہوگئی یا (پیشاب کے )قَطْرے کے مریض کو قَطْرہ آگیا تواس کے اَعْضاء بے دُھلے نہ ہوں گے بلکہ صِرف اِنہی اَعْضاء کودھوناہو گاجو باقی رہ گئے تھے۔
علامہ ابنِ عابِدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں:'' طَہارَت کے دَوران ناقِضِ وُضُونہ پایاجائے جب کہ وہ شَخْص مَعْذورنہ ہو۔(یعنی وُضُو کرتے وقت ، وُضُو توڑنے والی چیز کے نہ پائے جانے کا حکم اُس شَخْص کے بارے میں ہے جسے عُذْرِشرعی جیسے رِیح یا قَطْرہ آنے کامَرَض وغیرہ لاحِق نہ ہو) (رَدُّالْمُحْتَارج۱ص۲۰۳دارالمعرفۃ بیروت)

ہاں دَورانِ غُسْل اگر رِیح خارِج ہوئی تو صِرْف اَعْضائے وُضُو بے دُھلے ہوں گے باقی جو بَدَن دُھل چُکاہے وہ بے دُھلا نہ ہوگا۔

No comments:

Post a Comment